207

دنیا کا پہلا کمپیوٹر وائرس دو پاکستانی بھائیوں نے بنایا اسلم ملک کے قلم سے ایک تحریر

3 دہائیوں قبل ان 2 بھائیوں باسط علوی اور امجد علوی نے دراصل سافٹ وئیر پائریسی کے خلاف اپنی جنگ کا آغاز کیا تھا اور ان کا ہتھیار بنا ۔۔۔ دنیا کا پہلا کمپیوٹر وائرس۔

یہ 1986 کی بات ہے جب امریکا کی ڈیل وئیر یونیورسٹی کے طالبعلموں کو کمپیوٹر کے استعمال میں عجیب علامات کا سامنا ہوا، جیسے عارضی طور پر میموری ختم ہوجانا، سست ڈرائیو اور دیگر۔

اور اس کی وجہ دنیا کا پہلا پرسنل کمپیوٹر وائرس بنا جسے اب برین کے نام سے جانا جاتا ہے جو میموری کو تباہ کرنے کے ساتھ ہارڈ ڈرائیو کو سست اور بوٹ سیکٹر میں ایک مختصر کاپی رائٹ میسج چھپا دیتا۔
پہلا وائرس 2 پاکستانی بھائیوں باسط علوی اور امجد علوی نے جب دنیا کا پہلا وائرس تیار کیا تھا ان کی عمریں اس وقت 17 اور 24 سال تھیں اور وہ لاہور میں ایک کمپیوٹر کی دکان چلارہے تھے۔
اس وقت جب ان بھائیوں نے دریافت کیا کہ ان کے صارفین ان کے تحریر کردہ سافٹ وئیر کی غیرقانونی کاپیاں آگے بڑھا رہے ہیں تو انہوں نے جوابی وار کا فیصلہ کیا
۔
اس مقصد کے لیے برین نامی وائرس تیار کیا گیا تاکہ سافٹ وئیر چوری کرنے والوں کو ڈرایا جاسکے مگر ان بھائیوں کا موقف تھا کہ ان کا مقصد کوئی مجرمانہ کام کرنا نہیں تھا۔
2011 میں فن لینڈ کی ایک اینٹی وائرس کمپنی ایف سیکیور کو دیئے گئے انٹرویو میں دونوں بھائیوں نے اس بگ کو ‘دوستانہ وائرس’ قرار دیا جس کا مقصد ‘کسی ڈیٹا کو تباہ’ کرنا نہیں تھا اور اسی وجہ سے وائرس کوڈ پر ان کے نام، فون نمبر اور دکان کا پتا بھی موجود تھا۔
کچھ سال پہلے ایک انٹرویو میں امجد علوی نے بتایا ‘اس کے پیچھے بس یہ خیال تھا کہ اگر پروگرام کی غیرقانونی کاپی بنائی جائے تو وائرس لوڈ ہوجائے’۔
دونوں بھائیوں نے وائرس کے پھیلاﺅ پر نظر رکھنے کے لیے طریقہ کار بھی مرتب کیا ‘ہم نے پروگرام میں ایک کاﺅنٹر رکھا، تاکہ تمام کاپیوں کو ٹریک کرسکے اور معلوم ہوسکے کہ انہیں کب بنایا گیا’۔
دنیا بھر میں پھیل گیا
ان کا دعویٰ تھا کہ وہ نہیں جانتے تھے کہ یہ وائرس اتنا پھیل جائے گا کہ ان کے کنٹرول سے باہر ہوجائے گا مگر ٹائم میگزین نے ستمبر 1988 میں اس حوالے سے ایک تفصیلی جائزہ رپورٹ جاری کی بلکہ میگزین کور بھی وائرسز کے نام پر تیار کیا جس میں کچھ پیچیدہ پہلوﺅں پر بھی روشنی ڈالی گئی۔
میگزین کے مطابق یہ دونوں بھائی اپنے سافٹ وئیر کی چوری کے حوالے سے جتنے بھی فکرمند تھے، مگر خود دیگر مہنگے پروگرامز جیسے لوٹس 1-2-3 کی کاپیاں فروخت کررہے تھے اور ان کا موقف بھی کافی دلچسپ تھا کہ کمپیوٹر سافٹ وئیر کو پاکستان میں کاپی رائٹ تحفظ حاصل نہیں تو بوٹ لیگ ڈسکس کی تجارت کوئی پائریسی نہیں۔
اسی جواز کے تحت دونوں بھائی صاف کاپیاں پاکستانیوں کو فروخت کرتے جبکہ وائرس سے متاثرہ ورژن امریکی طالبعلموں اور سیاحوں کو۔
جب یہ امریکی شہری واپس گھر پہنچ کر پروگرامز کی کاپی بنانے کی کوشش کرتے تو وہ ہر اس فلاپی ڈسک کو انفیکٹ کردیتے جو وہ اپنے کمپیوٹرز میں لگاتے، وہ ڈسکس بھی جس کا اوریجنل پروگرام سے کوئی تعلق نہیں ہوتا تھا۔
ڈیل وئیر یونیورسٹی کے بعد برین وائرس دیگر یونیورسٹیوں میں سامنے آیا اور پھر اخبارات تک جاپہنچا۔
نیو یارک ٹائمز کے مطابق ایک نقصان دہ کمپیوٹر پروگرام نے Providence Journal-Bulletin کو نشانہ بنایا جس کا نقصان تو محدود تھا مگر ایک رپورٹر کئی ماہ کے کام سے محروم ہوگیا جو ایک فلاپی ڈسک میں موجو تھا۔
ویسے تو اس پر کوئی قانونی کارروائی نہیں ہوئی مگر اس وقت میڈیا کا ردعمل بہت زیادہ دھماکا خیز تھا، باسط اور امجد علوی کو دنیا بھر سے فون کالز موصول ہوئیں اور وہ ہر ایک کی طرح یہ جان کر حیران رہ گئے کہ ان کا چھوٹا سا تجربہ کتنی دور تک جاپہنچا ہے، کیونکہ آج تیزی سے پھیلنے والے وائرسز کے برعکس برین کی ترسیل پرانے انداز سے انسانی کیرئیرز کے ذریعے ہورہی تھی اور فلاپی ڈسکس کو سہارا بنایا گیا تھا۔
مگر اس کے بعد جن بوتل سے باہر نکل آیا اور اب 10 لاکھ سے زائد وائرسز کمپیوٹر کو متاثر کررہے ہیں اور ایسا تخمینہ لگایا تھا کہ دنیا بھر کے 50 فیصد کمپیوٹرز وائرس سے متاثر ہیں یا ہونے والے ہیں، صارفین ان سے لڑنے کے لیے سالانہ 4 ارب ڈالرز سافٹ وئیر پروگرامز پر خرچ کرتے ہیں۔
جہاں تک دونوں بھائیوں کی بات ہے تو یہ وائرس ان کے کاروبار کے لیے فائدہ مند ثابت ہوا اور ان کی کمپنی برین نیٹ پاکستان کی چند بڑی انٹرنیٹ سروسز پروائڈرز میں سے ایک ہے اور ایک انٹرویو کے دوران امجد علوی نے کہا ‘یہ وائرس اس وقت تک نہیں پھیل سکتا تھا جب تک لوگ سافٹ وئیر کو غیرقانونی طور پر کاپی نہیں کرتے’۔
دونوں بھائیوں کے مطابق انہوں نے وائرس سے متاثرہ سافٹ وئیر کی فروخت 1987 میں ختم کردی تھی اور اب بھی اسی پتے پر موجود ہیں جو برین کوڈ پر دیا گیا تھا۔
ایک تخمینے کے مطابق اس وائرس نے 1986 سے 1989 کے دوران ایک لاکھ سے زائد کمپیوٹرز کو نشانہ بنایا تھا، ویسے تو یہ کمپیوٹر کو نقصان پہنچانے کے لیے نہیں تھا مگر بہت جلد ہی اس کے نئے ورژن اور نقول تیار ہوگئیں جو بڑے پیمانے پر تباہی مچانے لگے۔
ٹی آر ٹی ورلڈ کے ایک حالیہ مضمون کے مطابق درحقیقت اب کمپیوٹر وائرسز کی تاریخ پاکستانی برین کے بغیر مکمل نہیں ہوتی کیونکہ اس سے ہی بیشتر پروگرامرز کو اینٹی وائرس سافٹ وئیر تحریر کرنے کا خیال آیا، جن میں سرفہرست نام جان میکافی کا ہے جو اب اینٹی وائرس سافٹ وئیر کمپنی کی بدولت کروڑ پتی بن چکے ہیں اور وہ پاکستانی بھائیوں کو جنیئس قرار دیتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا ‘میں نے سان جوز مرکری نیوز میں اس بارے میں پڑھا اور سوچا کہ آخر انہوں نے ایسا کیسے کیا، کسی نے بھی کبھی سافٹ وئیر کو بیکٹریا اور وائرسز کے طور پر استعمال کرنے کا نہیں سوچا تھا، یہ ایک جنیئس آئیڈیا تھا’۔
جان میکافی اس وقت ایک کمپیوٹر کمپنی انٹرپاتھ چلارہے تھے، انہوں نے برین کا تجزیہ کرکے اس کے مقابلے کے لیے ایک پروگرام تحریر کیا، جس کو الیکٹرونک بلیٹن بورڈ پر پوسٹ کیا گیا اور 2 ہفتے میں 10 لاکھ صارفین بن گئے۔اس طرح دنیا بھر میں معروف پہلے کمرشل اینٹی وائرس سافٹ وئیر میکافی نے جنم لیا۔
ڈان

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں