268

ھینو کا جنازہ کیا مولوی نے اس لئے نا پڑھایا کیوں کے وہ اھل تشیع تھا؟سچ جانئے

“کھاریاں کا ’ہینو‘ شیعہ تھا، سنّی مولوی نے جنازہ پڑھنے سے انکار کر دیا”
تحریر و تحقیق
مرزا یاسر رمضان جرال
گذشتہ رات سے سوشل میڈیا پر چند تصاویر وائرل ہیں جن میں تقریباً چار افراد ایک جنازہ اٹھائے جا رہے ہیں اور ایک تصویر میں یہی 4 لوگ اس میت کو دفن کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ اس کہانی کی تصدیق کے لئے کھاریاں میں مقیم دوستوں سے رابطہ کیا تو جو معلومات مجھے ملیں وہ اس معاشرے کے گھناؤنے چہرے پر موجود نقاب اتارنے کے لئے کافی ہیں۔
یہ جنازہ کھاریاں کے محلہ نیو آڑا کے رہائشی ”ہینو” کا تھا۔ سوشل میڈیا پر جس کے جنازہ کی تصاویر کے ساتھ یہ تحریر لکھی ہے کہ کھاریاں میں ایک نوجوان ٹریفک حادثے میں فوت ہوا جس کے والدین پہلے ہی وفات پا چکے تھے۔ مرنے والے نوجوان کا تعلق اہل تشیع مکتبہ فکر سے تھا تو دوسرے مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے اہل محلہ نے نوجوان کی نماز جنازہ پڑھانے سے انکار کر دیا۔
اس غریب جنازے کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں تو سب معاشرے کی اس بے حسی کا رونا رونے لگے اور میں ان تصویروں کو دیکھ کر بس یہی سوچ رہا تھا کہ آخر کوئی معاشرہ اتنا بے حس کیسے ہو سکتا ہے؟ لیکن سامنے نظر آنے والی تصویریں کچھ اور ہی کہانی بیان کر رہی تھیں۔
کھاریاں کے اس غریب جنازے کی تفصیلات کے لیے کھاریاں میں رہنے والے دوستوں سے رابطہ کیا جس پر چوہدری عبدالباسط نے میرا رابطہ مرحوم کے ایک محلہ دار سے کروایا، جن سے فون پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔
اس محلہ دار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ کل رات جس نوجوان کا جنازہ 4 لوگوں اٹھائے ہوئے تھے اس کا نام تو معلوم نہیں لیکن لوگ اسے “ہینو” کے نام سے پکارتے تھے اور اس کا گھر میرے گھر سے صرف چند گھروں کے فاصلے پر ہے۔
کھاریاں کے محلہ نیو آڑا میں مقیم ہینو کا گھر کوثر مسجد کے قریب واقع تھا اور وہ تین بھائیوں میں سب سے بڑا بھائی تھا جسے نشہ کرنے کی وجہ سے گھر سے نکال دیا گیا تھا۔ مرحوم ہینو کی والدہ کا انتقال ہو چکا ہے جبکہ سوتیلا باپ زندہ ہے اور حقیقی باپ کون ہے، یہ اہل محلہ نہیں جانتے کیونکہ اس کی والدہ کی یہ دوسری شادی تھی۔
ہینو کہ محلہ دار نے بتایا کہ اس کے دونوں چھوٹے بھائی بھی زیادہ نشہ کرنے کی وجہ سے انتقال کر گئے تھے اور یہ بھی نشے کی وجہ سے مارا گیا۔ ہینو کی موت کی وجہ بتاتے ہوئے محلہ دار نے بتایا کہ اس کی موت ٹریفک حادثے میں ہوئی جس کے بعد اس کی لاش کو سرکاری ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔
حاصل معلومات کے مطابق اہل محلہ کو موت کی اطلاع دینے کے لئے مسجد کا رُخ کیا گیا تو امام مسجد نماز مغرب پڑھانے میں مصروف تھے۔ جب امام مسجد اور نمازی حضرات نماز پڑھ چکے تو انہیں ہینو کی حادثاتی موت کی خبر سنائی گئی اور امام مسجد سے نماز جنازہ پڑھانے کی درخواست کی گئی۔ جس پر اہلسنت مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے امام مسجد نے یہ کہتے ہوئے انکار کر دیا کہ مرنے والے کا تعلق اہل تشیع مکتبہ فکر سے ہے اور وہ اس کا نماز جنازہ نہیں پڑھا سکتے، اگر انہوں نے ایسا کیا تو وہ مصیبت میں پھنس سکتے ہیں۔
میں نے ہینو کہ محلہ دار سے پوچھا کہ کیا وہ اہل تشیع تھا تو اس کا جواب تھا کہ یہ تو نہیں پتہ لیکن وہ محرم کے ماتمی جلوسوں میں جایا کرتا تھا۔ میں نے پوچھا کہ جب امام مسجد نے جنازہ پڑھانے سے انکار کیا تو باقی محلے داروں نے جنازہ کیوں نہ پڑھا؟ تو اُن کا جواب تھا کہ جب امام مسجد نے جنازہ پڑھانے سے انکار کر دیا تو اس لیے باقی محلے دار بھی جنازہ پڑھنے نہیں گئے۔ میں نے پوچھا آپ بھی نہیں گئے؟ تو اُن کا کہنا تھا کہ مجھ سمیت بہت سے محلے داروں کو پتہ ہی بعد میں چلا کیونکہ مسجد میں اعلان نہیں ہوا اور جب یہ سب ہوا وہ شہر میں اپنی دکان پر تھے۔
کھاریاں کا ہینو جو سڑک پر چلتی گاڑیوں کی ونڈ سکرین صاف کر کے گزر بسر کر رہا تھا اس کا لاشہ 4 کاندھوں کا محتاج تھا۔ ایسے میں چند نوجوانوں نے ایک اہل تشیع امام سے رابطہ کیا اور جنازہ پڑھانے کی درخواست کی جس پر وہ وہاں پہنچے اور 4 نوجوانوں (جن کے بارے میں کوئی معلومات نہیں مل سکیں) کی مدد سے پورے کھاریاں کا فرض کفایہ ادا کیا۔
وہ ہینو جو کل تک 4 کاندھوں کا محتاج تھا آج سوشل میڈیا پر پورا پاکستان اس کی مغفرت کی دعائیں کر رہا ہے۔ اللہ بڑا بے نیاز ہے، جسے چاہے عزت دے اور جسے چاہے رسوا کر دے۔ میرا اللہ جسے چاہے بخش دیتا ہے، غفور و رحیم اسی کی صفت ہے۔
یہ افسوسناک واقعہ کھاریاں میں پیش آیا اور سوشل میڈیا پر وائرل ہوا تو ہمیں احساس ہوا کہ یہ معاشرہ تو بے حس ہے۔ ہینو کے محلے داروں نے ظلم کیا ہے۔ لیکن، شاید ہم یہ بھول رہے ہیں کہ ہم بھی اسی معاشرے کا حصہ ہیں، ہم میں سے بہت سے ایسے ہیں کہ جب زندگی میں کہیں ایسا موقع آئے تو یقناً وہ بھی ہینو کے محلے داروں جیسا فیصلہ ہی کریں۔
بس درخواست یہی ہے کہ اگر آپ کو احساس ہو گیا ہے کہ جو ہوا ہے، غلط ہوا ہے تو اس کی مذمت کریں اور دل سے عہد کریں کہ جہاں آپ کو ایسی کسی صورتحال کو سامنا ہو گا تو آپ ہینو کہ محلے داروں جیسا فیصلہ نہیں کریں گے۔
جزا و سزا کا اختیار اللہ کا ہے، اللہ کے پاس ہی رہنے دیں کسی مولوی کو یہ اختیار نہ دیں۔ صرف میرا اللہ ہی دلوں کے راز بہتر جانتا ہے، وہ جانتا ہے کہ کون کتنا مقرب ہے۔ دیکھ لو کہ جس کا جنازہ پڑھنے کوئی نہیں گیا اس کی بخشش کی دعا پورا پاکستان کر رہا ہے۔
اللہ عزوجل مرحوم کی مغفرت فرمائے۔ آمین
بشکریہ ” نیا دور ”
واقعہ کا دوسرا رخ
کھاریاں کے جنازے کی اصل حقیقت.. 👇
بسم اللہ الرحمن الرحیم
السلام علیکم محترم قارئین کرام! چند دنوں سے سوشل میڈیا استعمال نہیں کر پارہا تھا پر اب چند بے بنیاد باتیں اس حوالے سے پڑھیں تو سوچا آپ حضرات کو اصل حقیقت بیان کروں
بات غریب آدمی کے جنازے کی نہیں اور نہ ہی ہماری عوام اتنی بے حس ہے، انسانیت کے ناطے ہمدردی کا اظہار کرنے والوں سے گزارش ہے مکمل پڑھیں اور ہمدردی کی آڑ میں اس جنازہ کو
“فرقہ وارانہ رنگ” دینے والوں کی چالوں کو سمجھیں،
چند ماہ قبل اسی لڑکے کا بھائی منشیات کی وجہ سے فوت ہوا تو اسکا جنازہ کوثر مسجد کے امام نے پڑھایا اور اہل محلہ کثیر تعداد میں شریک تھے تقریباً 4 سے 5 صفیں ہائی سکول میں بنی تھیں، پھر ایک دو ماہ بعد اسی لڑکے کا ایک اور بھائی بھی اسی لت کی وجہ سے فوت ہوا اور اسکا جنازہ بھی اسی امام نے پڑھایا اہلِ محلہ کافی تعداد میں تھے جن میں مختلف مسالک کے لوگ موجود تھے،اب نہایت اہم بات لکھنے لگا ہوں وہ یہ کہ مذکورہ بالا دونوں بھائیوں کی نماز جنازہ کے بعد لوگ گھروں کو لوٹ گئے اور تدفین میں 4 سے 5 افراد تھے اور امام مسجد ساتھ ساتھ تھے(اسوقت یوٹرن پر کسی کی ان چھوٹے سے جنازوں پر نظر نہ پڑی نہ انسانی ہمدردی جاگی نہ پہلے بھائی کی تدفین پر نہ ہی دوسرے کے) باقاعدہ دونوں جنازوں میں تدفین کے بعد قرآنی آیات کی تلاوت اور دعاء کے بعد ہی امام مسجد واپس لوٹے فی سبیل اللہ اللہ رسول کی رضا کے لئے، کسی شخص کو یہ ہمدردی اور انسانیت نظر نہیں آئی نہ ہی ایسے علماء کی حوصلہ افزائی کی گئی،
نوٹ اُن دونوں بھائیوں کی تدفین کا خرچہ امام صاحب کے کہنے پر ہی تحصیلدار محمد شریف مرحوم کے بیٹے مظفر اقبال بھٹی (کوثر مسجد کمیٹی کے صدر) نے اٹھایا،
پھر اس لڑکے کا انتقال ہوا اور امام مسجد نے مغرب کی نماز پڑھا کر بدستور جنازے میں شرکت کے لئے اہلِ محلہ کو کہا جس پر چند نوجوانوں نے اہلِ تشیع ہونے کا کہا، گواہی طلب کی گئی اکثریت خاموش 5 6 اشخاص نے اہلِ تشیع ہونے کا کہا تو مسجد کمیٹی کے صدر نے حکمت عملی کے تحت اسی وقت اسی مسلک کے امام کا بندوبست کردیا تا کہ امن و امان برقرار رہے اور کوئی فرقہ وارانہ فضاء نہ بنے. جنازہ ہوگیا،(کسی کو جنازہ پڑھنے سے نہیں روکا گیا میں محترم *کریم شاہ* میرا اپنا کھاریاں کے گروپ ممبر سے گزارش کروں گا کہ وہ اپنی تحقیق مکمل کر کے لکھیں کیونکہ آپ ایک انتہائی اہم اور ذمہ دار آدمی ہیں آپکے کالم میں بات بھی ذمہ دارانہ ہونی چاہیے) جنازہ ہوگیا پر بدستور تدفین میں وہی 4 سے پانچ افراد…
فرق صرف اتنا کہ اس بار وہ امام مسجد ساتھ نہ تھے تو اب کی بار انسانی ہمدردی جاگ اٹھی اور اس جنازہ کو لیکر خوب باتیں بنائی گئیں اور لوگوں کو(اسی لڑکے کے دو بھائیوں کا5 سے 6 افراد والا جنازہ جو کہ نظر نہیں آیا تھا کے بعد) یہ جنازہ دکھائی دے گیا اور انسانی ہمدردی کی آڑ میں فرقہ وارانہ کھاریاں شو کرنے کا موقع مل گیا،،
آخر میں ایک بات اور پڑھتے جائیے کہ اس لڑکے کی تدفین کا خرچہ بھی مظفر اقبال بھائی (صدر کمیٹی کوثر مسجد) نے اُسی امام مسجد کے کہنے پر انسانیت کے ناطے ہی اٹھایا،
الحمدللہ کھاریاں شہر فرقہ وارانہ فسادات سے پاک شہر ہے اور ہر مسلک کے افراد آزادانہ انداز سے اپنے معاملات سر انجام دیتے ہیں یہ ایک بھائی کے جنازہ کی کچھ تصاویر لیکر فرقہ وارانہ رنگ دینے والوں کو اسی کے دو بھائیوں کے جنازے کی تصاویر کیوں نہ مل سکیں…؟؟؟ اسوقت انسانی ہمدردی کہاں تھی..؟
یہ چال اسی شخص کی ہوسکتی ہے جو کھاریاں جیسے امن و امان والے شہر کو فرقہ پرستی والا متعارف کروانا چاہتا ہے از قلم محمد تیمور مدنی (مسرور رضا) امام و خطیب کوثر مسجد کھاریاں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں